Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سوانح حیات

Dr Israr ahmed biography

ڈاکٹر اسرار احمد  ایک جامع سوانح عمری
ڈاکٹر اسرار احمد بیسویں صدی کے ایک نمایاں پاکستانی اسلامی اسکالر، فلسفی، اور مبلغ تھے۔ جنوبی ایشیا اور دنیا بھر میں اردو بولنے والے مسلمانوں میں ان کی گہری اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے قرآنی تعلیمات کی عصری تفہیم اور ان کے عملی نفاذ پر زور دیا۔

ڈاکٹر اسرار احمد نے بہت سادہ زندگی گزاری اور کئی دہائیوں سے  تنظیم اسلامی کے ملحقہ چھوٹے سے فلیٹ میں سادہ سی زندگی تھوڑے سے سازو سامان کے ساتھ گزاری۔ نا بڑا گھر نہ لمبی گاڑی نہ پرتعیش دسترخوان۔ ایک چھوٹا سا بیڈ ۔ کرسی اور میز۔ اہلیہ کے لئے ایک صوفہ کم بیڈ اور کھانے کے لئے پلاسٹک کا فولڈنگ ٹیبل۔ پوری دنیا کے علوم دین کے لئے ایک مثال ہیں۔
 
ابتدائی زندگی اور تعلیم
ڈاکٹر اسرار احمد 26 اپریل 1932 کو برطانوی ہندوستان کے مشرقی پنجاب کے ایک ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق اتر پردیش کے علاقے مظفر نگر سے تھا مگر 1857 کی جنگ آزادی کے بعد وہ حصار منتقل ہو گئے ۔ان کا تعلق ایک راجپوت گھرانے سے تھا۔ ان کے والد برطانوی حکومت میں ایک سول سرونٹ تھے جنہوں نے بعد میں اپنے خاندان کو ہجرت کر کے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال منتقل کر دیا۔

اسرار احمد نے ابتدائی تعلیم ساہیوال میں حاصل کی اور پھر 1950 میں لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ انہوں نے 1954 میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور کچھ عرصے تک طب کے پیشے سے وابستہ رہے۔ تاہم، ان کی دلچسپی اسلام اور فلسفے کی طرف بڑھتی گئی اور انہوں نے 1965 میں کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
سیاسی اور مذہبی سفر
اپنی طالب علمی کے دوران، ڈاکٹر اسرار احمد اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور جلد ہی اس کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد، وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے، جس کی قیادت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کر رہے تھے۔ تاہم، 1957 میں انہوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لی کیونکہ انہیں جماعت کی انتخابی سیاست میں شرکت سے اختلاف تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ طریقہ کار اسلامی انقلاب کے ان کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔
 سال 1972 میں، ڈاکٹر اسرار احمد نے مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد قرآن کی تعلیمات کو عام کرنا تھا۔ 1975 میں، انہوں نے تنظیم اسلامی قائم کی، جس کا بنیادی مقصد ایک قرآنی بنیاد پر اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
 
قرآنی تعلیمات اور تبلیغ
ڈاکٹر اسرار احمد کو قرآن کی تفسیر اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے میں ایک منفرد مقام حاصل تھا۔ انہوں نے سائنسی اور عقلی انداز میں قرآن کے پیغام کو پیش کیا جس نے پڑھے لکھے طبقے کو خاص طور پر متاثر کیا۔ ان کے درس قرآن اور بیانات پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر نشر ہوتے تھے، جس سے انہیں ملک گیر شہرت ملی۔ ان کے مشہور پروگراموں میں "الکتاب"، "الف لام میم"، "رسول کامل"، "ام الکتاب"، اور خاص طور پر "الھدیٰ" شامل ہیں۔
 
تصانیف اور خدمات
ڈاکٹر اسرار احمد نے اردو میں 60 سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں اسلامیات، قرآن، اور پاکستان کے مسائل پر مضامین شامل ہیں۔ ان کی کئی کتابوں کا انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان کی اہم تصانیف میں "اسلامی نشاط ثانیہ اور سیرت النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور سانحہ کربلا ہیں۔

انہوں نے معاشرے میں اسلامی اقدار کے احیاء اور ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ایک فکری اور عملی جدوجہد کی۔ انہوں نے فرقہ واریت کی سختی سے مذمت کی اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔

اعزازات اور پہچان
ڈاکٹر اسرار احمد کی اسلامی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1981 میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

وفات
طویل علالت کے بعد 14 اپریل 2010 کو لاہور میں ڈاکٹر اسرار احمد کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات سے ایک علمی اور روحانی خلا پیدا ہو گیا، تاہم ان کی تعلیمات اور تصانیف آج بھی ان کے پیروکاروں اور عام مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ تنظیم اسلامی ان کے مشن کو ان کے بیٹے حافظ عاکف سعید کی قیادت میں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی قرآن کی خدمت اور اس کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کر دی۔ ان کی علمی بصیرت، فکری گہرائی، اور پرجوش انداز بیاں نے انہیں ایک ممتاز اسلامی مفکر اور رہنما کے طور پر پہچانا۔ ان کی کوششیں آج بھی جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک علم اور رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔

You May Read This Also

Post a Comment

0 Comments