سب لوگ لیے سنگ ملامت نکل آئے کس شہر میں ہم اہل محبت نکل آئے اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے ہر گھر کا دیا …
Read More »سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا …
Read More »منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا …
Read More »ا ب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہ…
Read More »سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اسکو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیک…
Read More »
Social Media